بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ قرآنی نگاہ کے ذریعے انقلابی طرزِ عمل کو دیکھتے ہوئے، گہرا سوال یہ اٹھتا ہے کہ قرآن نے انسان، معاشرے، دشمن، طاقت، عدالت، مزاحمت و مقاومت، امید، عوام اور مستقبل کے بارے میں امامِ مجاہدِ شہید سید علی خامنہ ای، (طاب ثراہ) کے نظریئے کو کس طرح متاثر کیا ہے؟
حصۂ چہارم:
امر بالمعروف، سماجی ذمہ داری
قرآن کی نگاہ میں صالح معاشرہ وہ نہیں جہاں ہر شخص صرف اپنی اصلاح میں مصروف رہے اور دوسروں کی ہدایت سے غافل رہے۔ قرآن کریم فرماتا ہے:
"وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ؛
اور تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونا چاہئے جو بھلائی کی دعوت دے، نیک کاموں کی ہدایت کرے اور برائیوں سے منع کرے اور یہی وہ ہیں جو ہر طرح کی بھلائی حاصل کرنے والے ہیں۔ (سورہ آل عمران، آیت 104)۔
یہ اصول، سماجی ذمہ داری کو تسلیم کرتا ہے۔
اسلامی معاشرہ برائی اور بدعنوانی، ظلم، امتیازی رویوں، تحریف، غربت، عدم افادیت اور سماجی نقصانات پر خاموش اور بے حس نہیں رہ سکتا۔
البته اس اصول کا نفاذ علم، اخلاق، قانون، صحیح طریقہ کار اور افراط و تفریط (two extremes) اور غیرذمہ دارانہ رویوں سے بچنے کا متقاضی ہے۔
اسی لئے، امر بالمعروف حکمرانی کے نظام میں مستقل سماجی اصلاح کے لئے عمومی ذمہ داری کے وسیع تر تصور سے جڑ سکتا ہے۔
دشمن شناسی؛ ایک قرآنی ضرورت
قرآن، مؤمنین کو دشمن اور اس کی چالوں سے بے پروا نہیں چھوڑتا۔
"إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوهُ عَدُوًّا؛
یقیناً شیطان تمہارا دشمن ہے، تو تم بھی اس کو دشمن سمجھو۔" (سورہ فاطر، آیت 60)۔
اس منطق میں دشمن شناسی کا مطلب معاشرے میں دشمن کا خوف پیدا کرنا، یا ہر جگہ دشمن ہی دشمن دیکھنا نہیں؛ بلکہ خطرات کی حقیقی شناخت، دشمن کے اہداف، اس کے اوزار اور اس کا مقابلہ کرنے کے راستوں کو پہچاننا ہے۔
اس زاویۂ نگاہ سے، انقلابی معاشرے کو بیک وقت دو صلاحیتوں سے لیس ہونا چاہئے: دشمن شناسی اور موقع شناسی (وقت شناسی)
کیونکہ صرف دشمن پر توجہ معاشرے کو فرسودہ کر سکتی ہے اور دشمن سے غفلت اسے کمزور اور زد پذیر بنا سکتی ہے۔
قرآنی عقلیت، دونوں کو ایک ساتھ چاہتی ہے۔
امید اور نصرتِ الٰہی؛ عزم و ارادے کے خاتمے سے بچاؤ
قرآنی فکر کے سب سے اہم اثرات میں سے ایک 'فعال امید' (Active Hope) پیدا کرنا ہے۔
قرآن کریم فرماتا ہے:
"وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ؛
اور کمزوری نہ دکھاؤ اور رنجیدہ نہ ہو اور تم برتر [اور غالب] ہوا اگر تم مؤمن ہو۔" (سورہ آل عمران، آیت 139)۔
یہ آیت، کوشش ترک کرنے کا وعدہ نہیں؛ بلکہ حوصلہ برقرار رکھنے اور حرکت جاری رکھنے کی دعوت ہے۔
قرآنی امید کا مطلب ہے مشکل حالات میں بھی تبدیلی کے امکان پر یقین رکھنا؛ مگر یہ امید عمل، صبر اور مجاہدت کے ساتھ ہونی چاہئے۔
چنانچہ:
• امید بغیر اقدام کے، سادہ لوحانہ خوش فہمی کے مترادف ہے
• اور امید اقدام کے بغیر، تھکن اور فرسودگی کا باعث بنتا ہے۔
• ان دونوں کا امتزاج تزویراتی امید (Strategic Hope) کو تشکیل دیتا ہے۔
قرآن اور مستقبل کے معاشرے کی تعمیر
قرآنی فکر بالآخر انسان کو خود سازی سے معاشرہ سازی اور مستقبل سازی کی طرف لے جاتی ہے۔
مؤمن انسان صرف انفرادی نجات کے لئے نہیں سوچتا؛ بلکہ ایسے معاشرے کی تعمیر کے لئے کوشاں رہتا ہے جہاں عدالت، کرامت و وقار، علم و سائنس، اخلاق، امن و سلامتی، استقلال و آزادی، اور معنویت و روحانیت کا نفاذ ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: آیت اللہ عباس کعبی، مورخہ 20 اگست 2026ع
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ